تحقیق و تقلید
غیر مقلدین کے ایک اعتراض کا جواب
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبراکاتہ
معزز ویب سائٹ وزٹر ! امید ہے کہ آپ خیریت سے ہونگے۔
جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت دنیا ئے اسلام میں بہت سے فتنہ اور فرقہ موجود ہیں۔ جن کے نام اگر لینا شروع کریں تو تعداد سینکڑوں تک پہنچ جائے۔ لیکن ایک فتنہ ایسا ہے جو امت کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے درپے ہوچکا ہے۔ اس فتنہ کا نام غیر مقلدیت ہے جسے عرف عام میں اہل حدیث کہا جاتا ہے۔
اس فتنہ نے اپنی پیدائش کے اوائل ہی سے امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے کی بجائے انگریز وفاداری نبھائی اور اس وفاداری کو عین اطاعت خداوندی قرار دیا۔ اس کے لئے اس عاجز کی مندرجہ ذیل ویب سائٹس کا مطالعہ کیجئے۔
تقلید کی ضرورت اور عصر حاضر کا تقاضا
غیر مقلدین کے کفریا عقائد کی ایک جھلک
بات یہیں تک نہ رہی بلکہ تقلید و تصوف پر بے جا اعتراضات شروع کردئے اور آج آئمہ اربعہ پر کھلا تبرا کرنا ان کی مجالس کا خاصہ بن چکا ہے۔
حال ہی میں ان میں سے ایک غیر مقلد نے اس عاجز عمران عمر سے ایک اعتراض کیا کہ ہمیں جب شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنا ہے تو ہم دین اسلام کو خود قرآن و احادیث سے کیوں نہ سمجھیں۔ گویا کہ وہ کہنا چاہتے تھے کہ ہمنیں بجائے تقلید کے ، تحقیق کرنی چاھئے۔
اس عاجز نے اس سلسلے میں ایک چھوٹی سی کاوش آپ کے سامنے پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے، اور امید کی ہے کہ یہ ویب سائٹ آپ کے علم و عمل میں اجافہ کا سبب بنے گی۔ انشا اللہ تعالیٰ
اس ویب سائٹ میں تقلید کی ضرورت اور تحقیق کے رموز و اوقاف پر بحث کی گئی ہے۔
آپ کی آرا کا انتظار رہے گا۔
فقط وسلام و ولاکرام